سپریم کورٹ نے لیہ سرکاری ٹیچر کلثوم اختر کی تقرری درست قرار دیدی

ٹیچرکلثوم اختر کو کسی قریبی سکول میں دوربارہ کنٹریکٹ پر ملازمت دی جائے، عدالت عظمیٰ

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں لیہ سرکاری ٹیچر کلثوم اختر کی تقری کے بعد نوٹیفکیشن واپس لینے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔جسٹس یحییٰ آفریدی بھی بنچ کا حصہ تھے۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کلثوم اختر کی تقرری درست قرار دیدی۔ عدالت نے کہاکہ ٹیچرکلثوم اختر کو کسی قریبی سکول میں دوربارہ کنٹریکٹ پر ملازمت دی جائے۔
وکیل ٹیچر نے کہاکہ 21 نومبر 2009 کو کلثوم اختر کا بطور عربی ٹیچر گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔وکیل ٹیچر نے کہاکہ چار دن بعد محکمہ نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔وکیل ٹیچر نے کہاکہ 2017 میں ہائی کورٹ نے کلثوم اختر کی تقرری کو درست قرار دیا۔ ایڈیشن ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان نے کہاکہ کلثوم اختر کا نوٹیفکیشن غلطی سے جاری ہوا،چوتھے دن اس کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا تھا ۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ نوٹیفکیشن جس آفیسر کی غلطی کی وجہ سے جاری ہوا اس کے خلاف کیا کاروائی ہوئی،رپورٹ کے مطابق تو اس آفیسر کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔عدالت نے کہاکہ یہ محکمہ کی نا اہلی ہے کہ انہوں نے غلط نوٹیفکیشن جاری کیا۔

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp