امریکا کا مشرق وسطی میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان

فوجی دستوں کی تعیناتی ایرانی فوج کے جارحانہ رویے کے ردعمل میں کی گئی . پیٹرک شناہن

واشنگٹن : خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار اضافی فوجی بھجوانے کا اعلان کردیا ہے. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان ٹینکروں پر ”بلااشتعال حملوں“ کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جبکہ تہران کی جانب سے یہ الزام مسترد کر دیا گیا تھا.
امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن کے مطابق ان فوجی دستوں کی تعیناتی ایرانی فوج کے جارحانہ رویے کے ردعمل میں کی گئی ہے‘امریکی بحریہ نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن سے ان کے مطابق ایران کے ان حملوں میں ملوث ہونے کا تعلق ثابت ہوتا ہے. قبل ازیں ایران نے اعلان کیا تھا کہ اگر یورپی ممالک نے اسے امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ 27 جون کو افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا.
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے مزید دستوں کی تعیناتی کا اعلان سیکرٹری دفاع شیناہن نے آج کیا ہے اپنے بیان میں نہوں نے کہا امریکہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا البتہ فوجی دستوں کی تعیناتی اس لیے کی گئی ہے تاکہ وہ اس خطے میں ہمارے فوجی اہلکاروں اور امریکہ کے مفادات کی حفاظت کر سکیں. انہوں نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملوں نے ایرانی افواج اور اس کے گماشتوں کے جارحانہ رویوں کے بارے میں ہماری قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات کو درست ثابت کیا ہے اور یہ رویے خطے میں امریکی فوج اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں.
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اس صورتحال کی نگرانی کرتی رہے گی اور فوجیوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے‘امریکی وزیر دفاع نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں کہ یہ اضافی فوجی دستے کہاں تعینات کیے جائیں گے. مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ علاقے میں 1500 فوجیوں کی تعیناتی کے حکم کے علاوہ ہے.

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp