پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے جارحانہ پالیسی کی مخالفت کر دی

جارحانہ پالیسی سے ہمیں نقصان ہوگا۔ اراکین اسمبلی کی رائے

اسلام آباد : : وزیراعظم عمران خان نے روزانہ کی بنیاد پر پارلیمنٹ جانے اور اپوزیشن کو انہی کی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے بعض اراکین اسمبلی نے اس جارحانہ پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ جارحانہ پالیسی اپنانے سے گریز کیا جائے بصورت دیگر ہمیں نقصان ہو گا۔ اس ضمن میں ثناء ﷲ مستی خیل نے کہا کہ وزیراعظم صاحب! جارحانہ پالیسی سے ہمیں نقصان ہوگا۔
اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے ۔ حکومت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مفاہمت کی پالیسی اپنائی جائے اور اپوزیشن کو جارحیت کی بجائے آرام سے جواب دیا جائے۔ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم کے رہنما اسامہ قادری نے شکوہ کیا کہ پارٹی کے کچھ رہنما آپ کو گمراہ کررہے ہیں۔ ہمارے ساتھ جو معاہدہ ہوا، اس پر عمل کیا جائے ۔ جس پر وزیراعظم نے جواب دیا بجٹ کے بعد خود کراچی جاؤں گا۔
کراچی کے ترقیاتی پیکج کی نگرانی خود کروں گا۔ اور ہم تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے روزانہ پارلیمنٹ ہاؤس جانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی میں جارحانہ حکمت عملی اپنائیں، جس لب ولہجے میں اپوزیشن بات کرے ،اسی میں جواب دیا جائے ،اپوزیشن ارکان صرف جھوٹ،جھوٹ اورجھوٹ بولتے ہیں۔
وزیراعظم نے پارلیمانی سیاست میں بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت حکومت اپوزیشن کا ہر جگہ بھرپور تیاری سے جواب دے گی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم بجٹ سیشن کے دوران زیادہ وقت اپنے چیمبرمیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کے سیشن میں بھی باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp