مرسی قاہرہ میں سپردِ خاک،

اخوان المسلمین نے ان کی موت کو قتل قرار دے دیا، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا بھی شکوک کا اظہار

قاہرہ : مصر میں سابق صدر مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل' قرار دیدیا ہے ،انھوں نے لوگوں سے مرسی کے جنازے میں شریک ہونے اور دنیا میں موجود مصر کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب ارزدگان نے محمد مرسی کی موت کا الزام مصر کے ’غاصبوں‘ پر عائد کیا جبکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد ال ثانی نے نے ان کی موت پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکہ کا کہنا ہے مرسی کو چھ سال تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا جس نے ان کے دماغ اور جسمانی حالت پر قابلِ ذکر اثر ڈالا، انھیں موثر اور بھرپور طریقے سے باہر کی دنیا سے کاٹ دیا گیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا ہے۔
محمد مرسی سنہ 1951 میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔اخوان المسلیمن نے سنہ 2012 میں صدارتی دوڑ کے اپنے پسندیدہ امیدوار کو مقابلہ چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے بعد محمد مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار چنا۔محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔
ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔واضح رہے کہ حکام کے مطابق محمد مرسی نے پیر کو ایک سائونڈ پروف پنجرے میں قید عدالت سے خطاب کیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
محمد مرسی کے خلاف دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے ایک جاسوسی کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔ 67 سالہ محمد مرسی اپنی معزولی کے بعد سے قید میں تھے،انکو ہائی بلڈ پریشر اور زیابیطس کے امراض لاحق تھے۔اطلاعات کے مطابق انھیں قاہرہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp