دُبئی کی سکول بس میں بند ہو جانے سے ایک اور بچہ جاں بحق

بدنصیب بچہ محمد فرحان فیصل کے والدین بھارتی ریاست کیرالا سے تعلق رکھتے ہیں

دُبئی : دُبئی میں بس میں بند ہو جانے کے باعث ایک اور بدنصیب بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس بار بس عملے کی غفلت کا نشانہ بننے والا بچہ محمد فرحان فیصل نامی بچہ ہے جس کا تعلق بھارتی ریاست کیرالا سے ہے، جو القوز کے ایک اسلامی مدرسے مرکز تحفیظ القرآن سے دینی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ 6 سالہ بچے کی وفات بس میں شدید حبس کے باعث ہوئی۔
متوفی بچے کے غمزدہ والدین نے بتایا کہ وہ صبح مدرسے جانے کے لیے بس میں سوار ہوا۔ صبح آٹھ بجے اُس کے ساتھی طالب علم باہر آ گئے مگر شاید نیند کے باعث وہ اپنی سیٹ پر سوتا رہا اور ڈرائیور اور کنڈکٹر نے بھی بس کو چیک کرنے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ بچہ شدید گرمی میں بس میں محبوس ہو کر رہ گیا۔ جس کے باعث اُس کی حالت بگڑ گئی اور وہ خالقِ حقیقی سے جا مِلا ۔
بس ڈرائیو رکو بس میں بچے کی موجودگی کے بارے میں اس وقت پتا چلا جب وہ 3بجے کے قریب بچوں کو چھُٹی کے وقت گھر لے جانے کے لیے بس میں سوار ہوا۔ جہاں بچہ سیٹ پر اُسے بے حِس و حرکت مِلا۔ ڈرائیور نے فوری طور پر ایمبولینس کو طلب کیا۔ تاہم بچے کو جب ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں اُس کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ بچے کی میت ضروری میڈیکل کارروائی کے بعد اُس کے سوگوار والدین کے حوالے کر دی گئی۔ بدقسمت بچہ محمد فرحان اپنے والدین کے تین بچوں میں سے سب سے چھوٹا تھا۔ جس نے تحفیظ القرآن کے مرکز میں اسی سال داخلہ لیا تھا۔ اُس کے والدین طویل عرصہ سے دُبئی کے علاقے کراما میں مقیم تھے۔ بچے کے والد کا تعلق بھارتی ریاست کیرالا سے تھا۔

تاریخ اشاعت : پیر 17 جون 2019

Share On Whatsapp