پنجاب حکومت نے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار کردی

عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی اورعلاج معالجہ پہنچ سے باہر، بجٹ میں ڈاکٹرز، حکماء ، ہومیوپیتھک ڈاکٹرز، جیولرز، الیکٹرانک اشیاء، ہوٹلز، ہاسٹلز، گیسٹ ہاؤسز، منی چینجرز، موٹرسائیکل ڈیلرز ودیگر چیزوں پر ٹیکسز لگا دیے گئے

لاہور : پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار کردی، جس سے عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی اور علاج معالجہ پہنچ سے باہر ہوجائے گا، بجٹ میں ڈاکٹرز، حکماء، ہومیوپیتھک ڈاکٹرز، جیولرز، الیکٹرانک اشیاء، ہوٹلز، ہاسٹلز، گیسٹ ہاؤسز، منی چینجرز، موٹرسائیکل ڈیلرز ودیگر چیزوں پر ٹیکسز لگا دیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے آج آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ پیش کردیا ہے۔
بجٹ میں جیولرزاورالیکٹرانک اشیاء والے اسٹورز پر2 ہزار ہر مہینے ٹیکس کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ نئی فرنچائززاور ڈیلرز پر بھی ماہانہ 5ہزار ٹیکسزعائد کرنے کی تجویز ہے۔ وکلاء پر ایک ، منی چینجرزپر6 اور موٹرسائیکل ڈیلرز پر ہرماہ 10 ہزار ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ اسی طرح 5سے 10کروڑ رکھنے والی کمپنی کیلئے سالانہ 70 ہزار ٹیکس رکھنے کی تجویز ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی حدودمیں ہومیوپیتھک اورحکماء ، ڈاکٹرز کلینک پر بھی ٹیکس عائد کردیے گئے ہیں۔ واضح رہے  پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال20۔2019ء کا بجٹ پیش کردیا ہے، بجٹ کا کل حجم23 سو ارب 57 کروڑ رکھا گیا ہے، صوبائی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، بجٹ میں 350 ارب غیرترقیاتی اور 1717ارب ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ گزشتہ10 سالوں کے سنگین معاشی بحران کا خاتمہ8 ماہ میں کیسے ممکن تھا؟ پنجاب کا بجٹ روشن مستقبل کا عہد نامہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بجٹ کی بنیاد3 ترجیحات پر رکھی گئی ہے۔ جس میں کم وسلیہ اورمحروم طبقات کا تحفظ پہلی ترجیح ہے۔ جبکہ انسانی وسائل کی ترقی دوسری اور یکساں علاقائی ترقی تیسری ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تحریک انصاف کی پالیسیوں کا آئینہ دار ہے۔ بدترین معاشی حالات کے باوجود اقتصادی بہتری کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ ملک لوٹنے والوں کے چہرے بےنقاب نہ کریں۔ ملک کا ہرپیدا ہونیوالا بچہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ بتایا جائے کہ 6 ہزار کے قرضے 30 ہزار ارب روپے تک کیسے پہنچے؟ ہاشم جواں بخت نے کہا کہ بجٹ میں ریونیوکی مد میں1990 ارب روپے کی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اسی طرح محصولات کی مد میں 388 ارب 80 کروڑروپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے جاری اخراجات کا کل تخمینہ 1298 ارب 80 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ کا کل حجم 23 سو ارب 57 کروڑ رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں 350 ارب غیرترقیاتی اور 1717 ارب ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10سال میں چند بڑے شہرنام نہاد ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز رہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کوترقیاتی حقوق فراہم کرنے کے صرف دعوے کیے گئے۔ حقیقت میں جنوبی پنجاب کوکم ازکم 256 ارب روپے سے محروم کیا گیا۔ میگا پراجیکٹس کا آغازمنصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے بغیرکیوں کیا گیا؟

تاریخ اشاعت : جمعہ 14 جون 2019

Share On Whatsapp