خون عطیہ کرنے کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان میں متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا،

20لاکھ لوگوں نے فیس بک پر سائن اَپ کیا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_art_pic' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_art_pic' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
کراچی : دنیا کے متعدد ممالک میں خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خون کا وطیہ دینے والے افراد کا زندگی بچانے کے لئے دیئے گئے تحفے پر اظہار تشکر کرنا تھا۔

پاکستان میں اس عالمی دن کے موقع پر قومی سطح پر صحت کے شعبے سے منسلک اداروں نے محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کیلئے متعدد پروگرام منعقد کئے ۔
ملک میں اس وقت صاف خون کی شدید قلت ہے۔

خون کی دستیابی ان مریضوں کیلئے نہایت ضروری ہے جو جان لیوا بیماریوں کا شکار ہیں۔ زچکی کے دوران اور اس کے بعد نومولود کیلئے بھی خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت خون کی شدید قلت ہے ۔ حسن عباس ظہیر ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور نیشنل کو رڈینیٹر ، سیف بلڈ ٹر انسفیوژن پروگرام، کے مطابق پاکستان میں محفوظ خون کی شدید قلت ہے اور اس کمی کو جلد از جلد پورا کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
صاف خون کی قلت کو دور کرنے کیلئے ملک کی آبادی کے تین فیصد حصے کو خون کا عطیہ دینا چاہیئے۔

 حسن عباس ظہیر نے بتا یا ” پاکستان میں تھیلسیمیاء کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے انتقال خون کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری آبادی کا تین فیصد حصہ باقاعدگی سے سال میں دو یا تین مرتبہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرے تاکہ ہم اپنے انتقال خون کے نظام کو 100 فیصد بلامعاوضہ اور رضا کارانہ بنیاد پر برقرار رکھ سکیں۔


سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اس مقصد میں کامیابی کیلئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ فیس بک نے پاکستان میں خو ن عطیہ کرنے کا فیچر 2017 میں متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر کی مدد سے لوگ اپنے آپ کو خون عطیہ کرنے والی کی حیثیت سے رجسٹر کر واکر ان لوگوں سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں جن کو خون کی ضرورت ہے یا پھر اپنا قریبی خون کا عطیہ وصول کرنے کا ادارہ تلاش کر کے خون عطیہ کر سکتے ہیں۔
سال 2018میں دنیا بھر سے پینتیس لاکھ لوگوں نے رضا کارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والے کے طور پر سائن آپ کیا تھا اور ان میں سے بیس لاکھ سے زیادہ افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔

ظہیر نے پاکستان کے ’مضبوط انسان دوستی‘ کے جذبے کو سراہا، یہ ایک پہلو ہے جو پاکستان میں خون کے عطیات میں اضافے میں مدد کرتا ہے۔


ہیش ٹیگس #SafeBloodForAll، #DonateBlood سوشل میڈیا پر جمعے کے روز آگاہی کے لئے استعمال کئے گئے۔


دنیا بھر میں 117.4 ملین خون کے عطیات جمع کئے گئے، جن میں سے 42 فیصد ترقی یافتہ ممالک جو کہ دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے موصول ڈیٹا کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں 52 فیصد سے زائد لوگوں سے لئے گئے خون کے عطیات 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو دیئے گئے۔ محفوظ خون زیادہ مقدار اور قابل بھروسہ طریقوں سے حاصل کرنے کے لئے مستحکم، رضاکار اور غیر منافع بخش بلڈ ڈونرز کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ڈونرز عطیات خون کے سب سے محفوظ ڈونرز گروپ ہیں جن میں خون سے پھیلنے والے انفیکشنزکا تناسب سب سے کم ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 14 جون 2019

Share On Whatsapp