لاہور میں ہیپاٹائٹس کا خطرہ سنگین صورت اختیار کر گیا

دنیا بھر میں 365ملین افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں‘ہر سال 134,0000افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں. رپورٹ

لاہور : پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہیپاٹائٹس کا خطرہ سنگین صورت اختیار کر گیا اور روزانہ 500 سے زائد مریض ہسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں، مرض میں مبتلا حاملہ خواتین کی شرح اموات میں بھی اضافے کا انکشاف ہوا ہے بدترین صورتحال میں بھی محکمہ صحت کی تاحال خاموشی سوالیہ نشان بن گئی. طبی ماہرین کے مطابق شہری معیاری خوراک اور صاف پانی کے استعمال کو یقینی بنائیں، شہر میں یرقان کی قسم ہیپاٹائٹس ای نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے، طبی ماہرین کے مطابق روزانہ سینکڑوں مریض ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر نعمان گیلانی نے کہا ہے کہ غیر معیاری خوراک اور آلودہ پانی کا استعمال ہیپاٹائٹس ای لاحق ہونے کی بنیادی وجہ ہے.
انہوں نے کہا کہ مرض کے وبائی شکل اختیار کرنے کے باعث شہریوں کو چاہیئے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری معالج سے رجوع کریں، ہیپاٹائٹس ای اور اے کے وبائی شکل اختیار کر جانے کے باوجود شہری مرض کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں. ہیپاٹائٹس بی اور سی غیرتصدیق شدہ انتقال خون ،آلودہ آلاتِ جراحی،استعمال شدہ سرنجوںاور استرے وغیرہ سے پھیلتا ہے‘ اس کے علاوہ غیر محفوظ جنسی تعلقات اور ماں سے بچے میں بھی یہ مرض منتقل ہو سکتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی اور مضر صحت کھانے کی اشیاءسے پھیلتا ہے.
اس انفیکشن کی زیادہ تر وجہ وائرس ہے جبکہ بعض اوقات شراب نوشی، کچھ ادویات کا بے جا استعمال یا انسان کے اپنے مدافعاتی نظام کی خرابی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے. ہیپا ٹائٹس کی چار اقسام ہیں، A,B,Cاور E۔ ان تمام اقسام میں سے سب سے عام ہیپاٹائٹس سی ہے. دنیا بھر میں 365ملین افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں جس میں سے ہر سال تقریباً134,0000افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں‘پاکستان میں 2017ءکے ایک سروے کے مطابق15ملین پاکستانی ہیپاٹائٹس سی کے مریض ہیں جویقیناًایک بہت بڑی تعداد ہے.

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp