محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت کے لیے درخواست دائر

اراکین قومی اسمبلی کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ درخواست میں مؤقف

پشاور : : اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست ضمانت پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، پیرحمیداللہ شاہ ایڈووکیٹ، سنگین خان ایڈووکیٹ اور طارق افغان ایڈووکیٹ پر مشتمل وکلاء ٹیم کی جانب سے دائر کی گئی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اراکین قومی اسمبلی کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر سماعت 17 جون کے لیے مقرر کردی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل محسن داوڑ اور علی وزیر کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست سابق چئیرمین ڈیمو کریٹ پارٹی آف پاکستان فتح یاب خالد نے دائر کی تھی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ دونوں ایم این ایز ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں نا اہل قرار دے دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ محسن علی داوڑ اور علی وزیر کو آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دے دیا جائے۔ دونوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حلف بھی خلاف ورزی کی۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ محسن علی داوڑ اور علی وزیر دونوں کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے بھی روکا جائے اور دونوں اراکین قومی اسمبلی کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کی جائے۔
یاد رہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 26 مئی کو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے علی وزیر اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے تاہم جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ دس افراد زخمی ہوئے تھے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp