جسٹس فائزعیسیٰ کیخلاف ایک اورریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر

جسٹس فائزعیسیٰ نے صدرپاکستان کوخط لکھے، جس میں اپنے مئوقف کیلئے عوامی فورم کا انتخاب کیا، بحیثیت جج یہ ان کا حق نہیں، بلکہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ریفرنس کا متن

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک اورریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج دیا گیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدرپاکستان کوخط لکھے، جس میں اپنے مئوقف کیلئے عوامی فورم کا انتخاب کیا ، بحیثیت جج یہ ان کا حق نہیں ،بلکہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک اورریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج دیا گیا ہے۔
ریفرنس کی کاپی صدرمملکت اور رجسٹرارسپریم کورٹ کو بھجوا دی گئی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف 8 صفحات پر مشتمل ریفرنس وکیل کی جانب سے دائر کیا گیا۔ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پہلے ریفرنس سے متعلق صدرپاکستان کو 2خطوط لکھے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دونوں خطوط اسی روز میڈیا میں لیک ہوئے۔خطوط میڈیا میں لیک ہونے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، بادی النظرمیں یہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے مئوقف کیلئے عوامی فورم کا انتخاب کیا تھا۔ بحیثیت سپریم کورٹ جج ان کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔یہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی بھی۔ دوسری جانب وکلاء تنظیموں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کررکھا ہے۔ مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی ودیگر جماعتوں نے بھی بھرپورتعاون کا یقین دلایا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے بھی ان کے حق میں کالیاں پٹیاں باندھ کراحتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جبکہ بعض وکلاء جن میں سیکرٹری سپریم بارکونسل بھی شامل ہیں ، نے جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں باہر نکلنے کی بجائے کہا کہ انہیں آئین وہ قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔ واضح رہے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل 2بجے ہوگا، اجلاس کی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ہوگا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp