سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے، ڈاکٹر نوشین حامد

اسلام آباد : پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے، خون کی حفاظت نئی حکومت کیلئے اہم ترجیح ہے اور ایس بی ٹی پی کے عمل کو موجودہ حکومت کے دوران تیز رفتاری سے اٹھایا گیا کیونکہ حکومت خون کی حفاظت پر بہت زور دیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام (ایس بی ٹی پی) کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ اسلام آباد میں ایک جدید علاقائی خون کا مرکز تعمیر کیا جا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ زمین پر جرمن حکومت کی مالی امداد کے ذریعے سال کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سوسائٹی کے صحت مند ممبران سے رضاکارانہ خون کے عطیہ پر انحصار کرے گا، اس ضمن میں ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کا انعقاد مناسب انداز میں کرنا بہت اہم ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی اسلام آباد بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی طرف سے منظم بلڈ ٹرانسفیوژن کا ایک ریگولیٹری نظام موجود ہے اور اب اسلام آباد میں سروس ڈلیوری کا نظام نئے جدید بلڈ مرکز کے ذریعہ وضع کیا جائے گا، مؤثر ریگولیشن اور ماڈل سروس ڈلیوری کے اس مجموعہ کو ملک کے دیگر حصوں میں بھی تقسیم کیا جائے گا تاکہ پورے ملک میں ایک جیسے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
پارلیمانی سیکرٹری نے اس اہم منصوبہ کی حمایت میں جرمن حکومت کا شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر اس منصوبہ کو فروغ دینے میں کے ایف ڈبلیو کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان میں خون کی حفاظت کو فروغ دینے کیلئے خاص طور پر رضاکارانہ خون کے عطیہ کیلئے فراہم کردہ تکنیکی مدد کی تعریف کی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ملک بھر میں خون منتقلی کیلئے محفوظ خون تک رسائی کو فروغ دینے کیلئے انمول خدمات فراہم کرنے پر اس منصوبہ کی تعریف کی۔
انہوں نے خاص طور پر اس منصوبے کو مثالی طور پر آگے بڑھانے اور درپیش مشکلات کو قابو پانے پر پروفیسر ظہیر کی تعریف کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس بی ٹی پی پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ظہیر نے بتایا کہ پاکستان میں رضاکارانہ خون کے عطیات کو فروغ دینا بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان میں بنیادی طور پر ’’خاندانی ڈونرز‘‘ پرٹرانسفیوژن کا انحصار کیا جاتا ہے جو کہ ناقابل اعتماد ذریعہ ہے اور اس سے مریضوں کے خاندانوں پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، رضاکارانہ اور باقاعدگی سے بلڈ ڈونر پر انحصار سے بلڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ یہ ’طلب پر چلنے والے نظام' کو 'سپلائی پر چلنے والے نظام یا سسٹم ' میں بدل دے گا، ان ممالک کی طرح جہاں ایک مؤثر اور اچھی طرح سے کام کرنے والے خون کا نظام موجود ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے صحت مند لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو سال میں تین سے چار مرتبہ خون دینے کیلئے آگے آنا ہو گا۔ پروفیسر ظہیر نے کہا کہ اسلام آباد کا ریجنل بلڈ سینٹر اگلے سال کے اختتام تک تیار کیا جائے گا اور رضاکارانہ اور باقاعدگی سے خون کے عطیہ دہندگان پر 100 فیصد انحصار ہو گا۔
اس مشکل ہدف کو حاصل کرنے کے پروگرام نے دو طرح کی حکمت عملی پر زور دیا، خاندانی ڈونرز کو رضاکارانہ اور باقاعدہ ڈونرز سے تبدیل کیا جائے اور یونیورسٹی کی بنیاد پرڈونرز کی تنظیموں کو مضبوط بنایا جائے۔ جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو کی نمائندہ ڈاکٹر معصومہ زیدی نے ملک میں خون کی منتقلی کا نظام بہتر بنانے کیلئے نئی حکومت کے عزم کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ جرمن حکومت منصوبے کو ایک ’’سکسیس سٹوری‘‘ کا نام دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس بی ٹی پی کے ذریعے سے ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کے انعقاد سے صحت مند رضاکارانہ عطیہ دینے اور ملک میں ایک نئے خون کے نظام کو فروغ دینے میںنمایاں کامیابی ملی ہے۔ رضاکارانہ عطیہ کو فروغ دینے کیلئے ایس بی ٹی پی کی طرف سے منعقد پوسٹرز اور مضامین کے مقابلوں کے فاتحین کو انعامات، سرٹیفکیٹ اور شیلڈز سے نوازا گیا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp