اماراتی طالبات میں میڈیکل سائنس کے شعبے میں شاندار کارنامہ انجام دے دیا

ہونہار طالبات نے دِل کی بند شریانیں کھولنے والا روبوٹ تیار کر لیا ہے

دُبئی : متحدہ عرب امارات کی خلیفہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی پانچ طالبات نے میڈیکل سائنس کے شعبے میں شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس پراجیکٹ میں شامل طالبات انوار الکثیری، سارہ آل علی، مریم بن کلیب، علیاءالزحمی اور شذی قرمان نے دِ ل کی بند شریانیں کھولنے کے لیے ایک روبوٹ تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ کو استعمال میں لانے سے دِل کا آپریشن مزید آسان ہو جائے گا۔
اور اس سے دِل کے حساس نوعیت کے آپریشن میں غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا، جس سے نہ صرف اوپن ہارٹ سرجری محفوظ ہو گی بلکہ اس کا دورانیہ بھی گھٹ جائے گا۔ یہ ہونہار طالبات اپنی کامیابی پر بہت خوش دکھائی دیتی ہیں۔ طالبات نے بتایا کہ اُن کا روبوٹ کے استعمال کا تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔ یہ میڈیکل سائنس کی دُنیا میں دِل کے آپریشن میں مزید سہولتوں کا باعث بننے گا۔
بلاشبہ یہ ہارٹ سرجری میں جدت لانے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس روبوٹ کی مدد سے دِل کی بند شریانوں میں سٹنٹ ڈالنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ روبوٹ خود کار طریقے سے کام کرے گا۔ اماراتی طالبات نے بتایا کہ روایتی طریقے سے انجیو پلاسٹی کے مرحلے کے دوران سٹنٹ ڈالنا بہت دُشوار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیوب کو شریان سے گزارتے وقت اس بات کا خطرہ بنا رہتا ہے کہ اس سے شریان کی دیواریں متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جس مقام پرسٹنٹ ڈالنا ہوتا تھا، اس کا تعین بھی خاصا مشکل کام ہوتا ہے۔ یہ روبوٹ تھری ڈی ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔ اسے آپریٹ کرنا انتہائی آسان ہے۔ اس کی ٹیوب بھی انتہائی لچکدار ہے جو بِنا کسی رکاوٹ کے شریان سے گزر کر دِل کے حساس مقام تک پہنچ سکتی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp