متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی موجودہ بجٹ سے مایوس دکھائی دیتے ہیں

پاکستانیوں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح اوور سیز پاکستانیوں کو نظر انداز کر دیا

دُبئی : وزیر اعظم عمران خان کے زیر انتظام وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر مختلف منفی و مثبت آراءسامنے آ رہی ہیں۔ اس حوالے سے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت نے بجٹ کو اوور سیز پاکستانیوں کے حوالے سے مایوس کُن قرار دیا ہے۔ دُبئی میں مقیم مختلف پاکستانیوں سے بجٹ کے معاملے میں آراءلی گئیں تو اُنہوں نے شکایت کی کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی سابقہ وزرائے اعظم کی طرح اوور سیز پاکستانیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔
حالانکہ اوور سیز پاکستانی سالانہ اربوں روپیہ زر مبادلہ کی صورت میں پاکستانی بھیجتے ہیں۔ ایک پاکستانی محمد حفیظ نے کہا کہ دفاعی بجٹ اور کابینہ ممبران کی تنخواہوں میں کمی قابلِ ستائش اقدام ہے۔ لیکن یہ بجٹ عوام کی جیبوں پر بہت بھاری پڑے گا۔ کیونکہ اس میں عوام سے قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کچھ نہیں کیا گیا۔
بس 6.75 کی شرح سے بانڈز کی سرمایہ کاری ایک اچھا اقدام ہے۔ پاکستان بزنس کونسل دُبئی کے صدر اقبال داﺅد نے کہا اگرچہ اس بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم نئے ٹیکسیز اور ڈیوٹیز کے نفاذ سے عام آدمی کی زندگی بُری طرح متاثر ہو گی اور اس سے مہنگائی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ لگتا ہے کہ حکومت کے پاس سوائے ٹیکسز اکٹھے کرنے کے اور کچھ نہیں رہ گیا۔
البتہ 1600 خام اشیاءپر امپورٹ ڈیوٹی میں کمی ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ کونسل آف پاکستانی انجیئنرز ، یو اے ای کے صدر ملک ظہیر اعوان نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور پاکستانی قوم ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کو سپورٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس بجٹ کو مثالی بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ ایک حقیقت پسندانہ بجٹ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ دیگر پاکستانیوں نے بھی بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے 2 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر پاکستان بھیجیں۔ سمندر پار مقیم پاکستانی بلاشبہ پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاہم بجٹ میں اُنہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp