دُبئی: پاکستانی ڈرائیورنے بس میں سوار اکیلی خاتون کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا

تاجیک خاتون کی جانب سے پولیس کو اطلاع دینے کے ارادے پر ملزم نے خود کُشی کرنے کی دھمکی دی

دُبئی : پولیس نے ایک پاکستانی بس ڈرائیور کو بس میں سوار تاجیک خاتون سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 27 سالہ ملزم ایک بس چلاتا ہے۔ وقوعہ کے روز اُس نے سواریاں اُتاری تو آخر میں صرف ایک 24 سالہ تاجیک خاتون ہی بس میں رہ گئی۔ خاتون کو بس میں اکیلا پا کر ڈرائیور کی نیت خراب ہو گئی۔ وہ بس چلا کر کسی ویران علاقے میں لے گیا اور پھر خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ چمٹا کر اُس سے بوس و کنار کی کوشش کی اور دیگر نازیبا حرکات کرتا رہا۔
اور پھر اُسے ڈرا دھمکا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ تاجیک خاتون نے ملزم سے کہا کہ وہ اُس کی شرمناک حرکات کی رپورٹ پولیس اسٹیشن میں درج کرانے جا رہی ہے۔ یہ سُن کر ملزم کی ساری ہوس پرستی ہوا ہو گئی۔ نوجوان ڈرائیور خاتون کی منت سماجت کرنے لگا کہ وہ پولیس کے پاس نہ جائے۔ اور پھر یہاں تک بھی دھمکی دے ڈالی کہ اگر اُس نے ایسا کیا تو وہ خود کُشی کر لے گا۔
تاہم خاتون نے المرقبت کے تھانے میں پاکستانی ڈرائیور کے خلاف جنسی زیادتی کی رپورٹ درج کرا دی۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ ڈیرہ جانے کے لیے بس میں سوار ہوئی۔ اس دوران ساری بس خالی ہو گئی۔ الجفیلیہ کے صحرائی علاقے میں ملزم نے یہ کہہ کر بس روک دی کہ وہ نماز پڑھ کر واپس آرہا ہے۔ جب وہ واپس آیا تو اُس نے میری خوبصورتی کی تعریفیں کرنا شروع کر دیں اور پھر اچانک مجھ سے جنسی عمل کرنے کا شرمناک مطالبہ کر دیا۔
خاتون نے جب چےخ و پُکار کرنا چاہی تو ملزم نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔ جس پر ڈرائیور نے اُسے تھپڑ مارے اور دھمکی دی کہ اگر شور مچایا تو وہ اپنے دوستوں کو بھی بُلوا کر اُس سے اجتماعی زیادتی کر ڈالے گا۔ خاتون کو اُس کے خوفناک ارادوں کے آگے مجبوراً اپنی عزت گنوانا پڑی۔ ہوس پُوری ہونے کے بعد پاکستانی ڈرائیور منت سماجت کرنے لگا کہ وہ اس واقعے کی رپورٹ نہ کرے، اُس سے غلطی ہوئی ہے، اگر اُس نے ایسا کیا تو وہ خود کُشی کر لے گا۔ تاہم خاتون نے پولیس کو رپورٹ کروا دی۔ اس مقدمے کا فیصلہ 23 جُون 2019ءکو سُنایا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp