عمران خان کا لہجہ وزیراعظم کے منصب کے اہل نہیں

وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ وہ کب تک غلط بیانی سے کام لیں گے، قمر زمان کائرہ

لاہور :   بجٹ پیش ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد رات کے وقت وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔جس میں انہوں نے بجٹ سے متعلق چیدہ چیدہ نکات پر بات کرنے کے بعد اپنی حکومت کو درپیش مشکلات پر بات کی۔اس کے بعد اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں جیل پہنچانے اور لوٹی ہوئی دولت واپس نکلوانے کے عزم مصمم کا ایک بار پھر قوم سے وعدہ کیااور اپنی تقریر کے آخر میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان کے قوم سے اس خطاب پر اپوزیشن نے خوب تنقید کی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خطاب میں اصل ٹارگٹ اپوزیشن تھی، وہ بجٹ سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں پارٹی کے دیگر رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کا لہجہ وزیراعظم کے منصب کے اہل نہیں، کیا انھیں اس لہجے میں بات کرنا چاہیے تھی؟ان کا کہنا تھا کہ حیرانی ہے کہ جب صدر یا وزیراعظم قوم سے خطاب کرتے ہیں تو خاص پیغام دیتے ہیں۔
ہم سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ اس خطاب میں ایسا کیا تھا، قوم سے خطاب میں تاخیر کیوں ہوئی؟قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کچھ کہا جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ وہ اگر انکوائری کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو شوق سے بنائیں۔تاہم وزیراعظم عمران خان یہ بتائیں کہ وہ کب تک غلط بیانی سے کام لیں گے۔ آج پاکستان کا ہر طبقہ پریشان ہے۔
دودھ سمیت کھانے پینے کی ہرچیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔چھوٹے طبقے سے لے کر بڑے طبقے تک ہر کسی کو پیس کر رکھ دیا گیا ہے۔سفید پوش طبقے کا زندہ رہنا مشکل ترین کردیا گیا ہے،ایسے میں وزیراعظم کو جب قوم کو اعتماد میں لینے اور مشکل سے نکلنے کے ایشو پر بات کرنا چاہیے تھی وہ اس وقت بھی اپوزیشن کو طعنے دینے اور قوم کو دھوکا دینے میں مصروف تھے۔انہیں اپنے منصب کا خیال کرتے ہوئے ایسا لہجہ اپنانے سے گریز کرنا چاہیے جو کہ وزیراعظم پاکستان کو زیب نہیں دیتا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 13 جون 2019

Share On Whatsapp