اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک پر تقسیم ہو گئیں

مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا چاہتی ہیں،مولانا فضل الرحمن حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراؤ تحریک چلانا چاہتے ہیں

اسلام آباد : : اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک کے بیانیہ پر تقسیم ہو گئی ہیں۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا چاہتی ہیں تاہم مولانا فضل الرحمن حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراؤ تحریک چلانا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہوا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا چاہئیے کیونکہ عوام مسائل کی بنیاد پر حکومتیں نہیں گرتیں۔
مولانا فضل الرحمن حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے لوگ اکھٹے کرنا میرا کام ہے۔ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حالیہ گرفتاریوں کے بعد اے پی سی بلانا چاہتی ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ واضح بیانیے کے ساتھ اے پی سی بلائی جائے۔جب کہ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ : پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
تاہم اب اپوزیشن نے بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور متحد ہو کر حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا جس کے بعد سے سیاسی پنڈتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ موجودہ حکومت کوئی ابھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب چونکہ پاکستان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں لہٰذا اب حکومت مخالف چلائی گئی کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔
قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکہ کے شہر نیویارک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں اگر اس صورت میں حکومت مخالف تحریک چلائی گئی تو وہ کامیاب نہیں ہو گی۔بلکہ مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کے وہ رہنما جو سابق دور حکومتوں میں وزرا تھے اور جن پر کرپشن کے کیسز نیب میں زیر التوا ہیں وہ آہستہ آہستہ پردے سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp