ایف بی آر نے نان فائلرز کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تردید کر دی

نان فائلرز کو غیر منقولہ جائیداد، گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی، نئے فنانس بل میں نان فائلرز کی قانونی حیثیت کو ہی ختم کر دیا گیا ہے، ایف بی آر

اسلام آباد : ایف بی آر نے نان فائلرز کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تردید کر دی ۔ ایف بی آر نے کہاکہ نان فائلرز کو غیر منقولہ جائیداد، گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق نئے فنانس بل میں نان فائلرز کی قانونی حیثیت کو ہی ختم کر دیا گیا ہے، تمام افراد کو اپنی قابل ٹیکس آمدنی کے گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق نان فائلرز کو ودہولڈنگ سٹیج پر 100 فیصد زیادہ ٹیکس دینا پڑیگا۔
ایف بی آر کے مطابق خود کار طریقہ سے ٹیکس کے تعین کے بعدچھپائی گئی آمدن پر جرمانہ اور سزا بھی لاگو ہو گی۔وسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی قانون میں نان فائلر کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے، 2104ء میں نان فائلر کی غلط تشریح کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فائلر بننے والے کو نان فائلر بننے کا راستہ نہیں دکھایا جاتا جبکہ گذشتہ حکومت نے فائلر کو نان فائلر بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مالی سال 2019-20ء کے بجٹ میں اس کو درست کیا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی حکومت نے نان فائلرز کے جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ وزیر مملکت برائے ریوینو نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومت نے یہ پابندی عائد کی تھی کہ کسی نان فائلر کے نام پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کو رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا تاہم یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جائیداد کی خریداری پر اس پابندی کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو عدالت میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے لہٰذا نان فائلر کیلئے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد یہ پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے بعد خبر آئی تھی کہ نان فائلرز پر جائیداد خریدنے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے تاہم اب ایف بی آر نے نان فائلرز کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تردید کر دی ہے۔ ایف بی آر نے کہاکہ نان فائلرز کو غیر منقولہ جائیداد، گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp