صوبہ پنجاب کا بجٹ 20-2019ء ، وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہ نہ بڑھانے کا فیصلہ

وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور : : وفاقی حکومت گذشتہ روز مالی سال 20-2019ء کا بجٹ پیش کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے بجٹ کا حجم 7 کھرب 22 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ تاہم اب پنجاب حکومت نے بھی اپنے پہلے بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے ، پنجاب حکومت کا پہلا بجٹ 14 جون کو پیش کیا جائے گا۔
جس میں 350 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھا گیا جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 2 ہزار 2 سو ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کے آئندہ مالی سال 20-2019ء کے بجٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی جبکہ صوبائی وزرا کی تنخواہیں بھی نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔
پنجاب حکومت کے بجٹ میں بیوٹی پارلرز اور ہئیر ڈریسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے صوبائی بجٹ 20-2019ء کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بجٹ 14 جون کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا لیکن اس سے قبل صوبائی کابینہ سے اس کی منظوری لی جائے گی۔محکمہ خزانہ پنجاب نئے مالی سال کے بجٹ کو ٹیکس فری اور 200 ارب کا سرپلس بجٹ قرار دے رہا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہوگا، جس میں نئے ٹیکس لگانے کے بجائے پہلے سے موجود ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی ملازمین کی طرح گریڈ 16 تک 10 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp