مراد علی شاہ کی گرفتاری کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا نام سامنے آ گیا

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری کی صورت میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی قریبی شخصیت ناصر حسین شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  کو ہٹائے جانے کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا نام سامنے آ گیا۔معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل چل رہا ہے تو مراد علی شاہ کو بھی جانا ہو گا۔ہر جگہ پر مراد علی شاہ کے دستخط ہیں۔مراد علی شاہ کی تقرری انور مجید نے کی تھی اور یہ فیصلے دوبئی میں ہوتے تھے کہ کس نے سندھ کا وزیراعلیٰ بننا ہے اور کس گھر میں کتنے پیسے جانے ہیں۔
اب چونکہ اومنی گروپ پکڑا گیا ہے تو مراد علی شاہ کی بھی گرفتاری ہو سکتی ہے اس صورت میں ناصر حسین شاہ کو وزیر اعلیٰ سندھ بنایا جائے گا وہ آصف علی زرداری اور فرایل تالپور کے بھی قریب ہیں۔ناصر حسین شاہ کو پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی سربراہ فریال تالپور کا قریبی شخص سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے تمام ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔
سید مراد علی شاہ پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے تصدیق کیے بغیر سیاسی دباؤ میں آ کر سندھ حکومت کے خزانے سے اربوں روپے کی رقم شوگر ملز کو سبسڈی میں دی اور ان شوگر ملز کو بھی سبسڈی دی جن کی کوئی مشینری ہی نہیں تھی۔ یہی نہیں ان پر ایک اور الزام یہ بھی عائد ہے کہ انہوں نے محکمہ خزانہ سے دیگر محکموں کو جاری کی جانے والی رقوم سے ملنے والی کمیشن کی رقم کہاں خرچ کی اس کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ آخر کار متعلقہ رقم کہاں خرچ کی گئی ۔
ذرائع کے مطابق مراد علی شاہ پر ضلع ملیر میں زمین ضیاء الدین اسپتال کے نام کرنے کا بھی الزام ہے جس کی نیب تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات کے دوران نیب میں پیش بھی ہو چکے ہیں ۔یاد رہے کہ گذشتہ روز نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس سے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد انہیں نیب ہیڈکوارٹرز راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ سابق صدر کو آج سخت سکیورٹی میں نیب کورٹ لایا جائے گا جہاں ان کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp