پاکستان سٹیبل ہو گیا ہے، چند سال ہیں پھر یہ ملک اوپر اٹھتا جائے گا، وزیراعظم

میں کرپشن کرنے والوں کے پیچھے جاؤں گا، مجھے حکومت جانے کی فکر نہیں ہے، میری جان بھی چلی جائے میں انکو نہیں چھوڑوں گا، عمران خان

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خاطاب کے دوران کہا ہے کہ پاکستان سٹیبل ہو گیا ہے، چند سال ہیں پھر یہ ملک اوپر اٹھتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں کرپشن کرنے والوں کے پیچھے جاؤں گا، مجھے حکومت جانے کی فکر نہیں ہے، میری جان بھی چلی جائے میں انکو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک شخص صرف علاج کروانے جاتا تھا اور 28کروڑ روپے خود پر خرچ کر لیتا تھا جو عوام کا تھا جبکہ اس شخص کا اپنا بیٹا باہر 650 ارب کے فلیٹ میں رہتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ادھا پیسہ سود اور قرض دینے میں چلا جاتا ہے، ملک کہاں سے چلاؤں؟ یہ جو بجٹ ہے اس میں ہم نے کمزوروں اور غریبوں کے لیے بجٹ رکھا ہے، ہاؤسنگ کے لیے 6 ارب روپے دیے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میں اپنے گھر کا سارا خرچہ خود کرتا ہوں۔ میں اور شبر زیدی مل کر کام کریں گے۔ میں شبر زیدی کے ساتھ مل کے ایف بی آر ٹھیک کروں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ نئے پاکستان کی عکاسی کرے گا اور پاکستان عظیم ملک بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مدینہ 14سو سال پہلے بنی تھی اب کوئی نئی بات کرو، میں کہتا ہوں کہ وہ ماڈرن ریاست تھی۔ اصل ریاست وہ ہے جس ریاست کا سربراہ جوابدہ ہو، جہاں کوئی قانون سے اوپر نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ نظریہ پاکستان کی عکاسی کرنے والا بجٹ ہے، مدینہ کی ریاست کے اصول مغربی دنیا میں ہیں لیکن ہم انہیں نہیں اپنا سکے۔
عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ کوئی کہتا تھا کہ نیب اسے نہیں پکڑ سکتا اور یہ کہ نیب کون ہوتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آج بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن بڑی ریاست نہیں بن گئی تھی، عمران خان نے کوئی سوئچ نہیں چلانا کہ سب ٹھیک ہو جائے، ان کاموں میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ججوں کو فون کر کے بتاتے تھے کہ یہ کرو اور ان سے ڈنڈے کے زور پہ کام کرواتے تھے، یہ ان کے بنائے نیب نے ہی انہیں سزا دلوائی ہے۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے بڑے بڑے برج الٹ جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو پہلے دن سے مجھے تقریر نہہیں کرنے دی گئی، نہ پہلے دن بولنے دیا نہ اب بولنے دیتے ہیں جب جاتا ہوں شور مچاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کو این آراو نہیں دے رہا جو یہ مانگ رہے ہیں، این آر اوز نے ہمیں مقروض کیا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی اکٹھے ہو گئے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے، سرے محل بک گیا لیکن پیسہ این آر او کی وجہ سے پاکستان میں نہیں آیا۔
انہوں نے مل کر نیب کا ہیڈ لگایا اور 5,5 سال کی باری رکھ لی کہ تم ہمیں کچھ نہ کہنا ہم تمہیں نہیں کہیں گے۔ نیب میں جو کیسز ان پر تھے وہ میں نے نہیں کیے تھے وہ انہوں نے خود ایک دوسرے پر بنائے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp