لندن پولیس نے الطاف حسین کی گرفتاری پر اعلامیہ جاری کر دیا

الطاف حسین کو نفرت انگیز تقریر اور پاکستان مخالف تقاریر کرنے پر گرفتار کیا گیا،گرفتار شخص سے متعلق تحقیقات کے لیے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اعلامیہ

لندن : لندن پولیس نے الطاف حسین کی گرفتاری پر اعلامیہ جاری کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لندن پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گرفتاری کی تصدیق کی جا چکی ہے۔اس حوالے سے لندن پولیس نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کو نفرت انگیز تقریر اور پاکستان مخالف تقاریر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔الطاف حسین کو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے صبح سویرے گرفتار کیا۔
گرفتار شخص سے متعلق تحقیقات کے لیے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔خیال رہے ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین کو آج لندن میں گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی اور قائد کو لندن میں گرفتارکر لیا گیا۔لندن پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری شمال مغربی لندن میں ایک مقام سے کی گئی۔گرفتار شخص تاحال پولیس حراست میں ہے۔
انویسٹی گیشن کے تحت شمال مغربی لندن میں ایک مقام کی تلاشی جا رہی ہے۔تحقیقات لندن پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ کے افسران کر رہے ہیں۔تفتیش کار شمال مغربی لندن میں ایک کمرشل مقام کی بھی تلاشی لے رہے ہیں۔تحقیقات کا فوکس ایم کیو ایم کی ایک شخصیت کی اگست 2016ء کی نفرت انگیز تقریر ہے۔تحقیقات کے دوران پاکستان میں حکام سے لندن پولیس رابطے میں ہے۔
اسکارٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا۔الطاف حسین کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے میں 15 کے قریبپولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ بانی ایم کیو ایم کو گرفتاری کے بعد مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فی الوقت بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے گھر کی تلاشی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016ء میں کی گئی نفرت انگیز تقریر پر عمل میں لائی گئی۔
تاہم ابھی تک ایم کیو ایم کی طرف سے الطاف حسین کی گرفتاری سے متعلق تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن قانونی کاروائی سے متعلق غور کر رہی ہے۔اسی متعلق تبصرہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کی ایجنسیوں اور عمران خان کو جاتا ہے۔سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ الطاف حسین سے صرف منی لانڈرنگ سے متعلق نہیں بلکہ ڈاکٹر فاروق کے قتل سے متعلق بھی سوالات ہونے چاہئیے۔

تاریخ اشاعت : منگل 11 جون 2019

Share On Whatsapp