کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ماحولیاتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

کویت میں سانس کے امراض میں مبتلا بچوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے

کویت : دُنیا کے معروف ہیلتھ میگزین لانسیٹ پلانٹری ہیلتھ کی جانب سے ایک شائع شُدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب بچوں میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے باعث لاحق ہونے والے دمے کے مرض کی شرح دُنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ادارے کی اس رپورٹ میں 194 ممالک کے اعداد و شمار لیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عرب ممالک میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی سب سے زیادہ شرح کویت میں پائی جاتی ہے۔
جہاں سالانہ ایک لاکھ بچوں میں سے 550 بچے دمہ کے مریض بن رہے ہیں۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کا نمبر ہے جہاں پر سالانہ ایک لاکھ بچوں میں سے440 بچے دمے کا شکار بن چکے ہیں۔ اس فہرست میں سعودی عرب کا نمبر دُنیا بھر میں 17 واںبتایا گیا ہے۔ لانسیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دُبئی، ریاض، جدہ اور عمان جیسے خلیجی شہروں میں دمے کے امراض میں مبتلا بچوں کی شرح دُنیا بھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اس کی وجہ یہاں پر پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی ہے کیونکہ ان ترقی یافتہ ممالک میں انڈسٹری اور ٹریفک بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہاں ماحولیاتی آلودگی بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے معاملے میں متحدہ عرب امارات 9ویں نمبر پر جبکہ قطر 14 ویں نمبر پر ہے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سے دنیا بھر میں ہر سال 70 تا 80 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ صرف 2016 کے دوران ہی 6 لاکھ بچوں کی اموات ماحولیاتی آلودگی سے ہوئی۔ گاڑیوں اور ٹرکوں کے دھوئیں سے پیدا ہونیوالی آدگی کے باعث ہر سال 40لاکھ بچے دمے کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : منگل 11 جون 2019

Share On Whatsapp