سعودی عرب :گرمی کے ستائے لاکھوں ملازمین کے لیے ٹھنڈی ٹھار خبر آ گئی

گرمی کے تین مہینوں کے دوران دوپہر کے تین گھنٹے کھُلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی عائد

ریاض : سعودی عرب کا شمار دُنیا کے گرم ترین خطوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ گرمی کے دِنوں میں تو اس کی دھرتی آتش فشاں کی طرح سے کھولنے لگتی ہے۔ سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ہر شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جس سے یہاں کے مقامی باشندے اور غیر م±لکی ملازمین کی فلاح و بہبود میں خاصی ترقی دیکھنے کو مِلی ہے۔سعودی عرب کی وزارت محنت و سماجی بہبوونے اعلان کیا ہے کہ 15جُون 2019ءسے لے کر 15 ستمبر 2019ءتک تین مہینوں پر محیط مدت کے دوران کسی بھی ملازم سے دوپہر بارہ بجے سے لے کر سہ پہر تین بجے تک کھلے آسمان تلے مزدوری نہیں کروائی جائے گی کیونکہ ان مہینوں میں شدت کی گرمی پڑتی ہے جس سے ملازمین کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق کمپنی یا آجروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اُن کے ملازمین کھ±لّے آسمان تلے ان تین گھنٹوں کے دوران قطعاً کام نہیں کریں گے۔ یہ حکم کابینہ کی طرف سے وزارت کو جاری کیا گیا تھا جس کی تکمیل کی خاطر تمام سرکاری اور نجی شعبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔یہ حکم پُورے مُلک میں لاگو ہو گا۔ جن خطوں میں درجہ حرارت قابلِ برداشت ہے‘ وہاں پر بھی اس پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔ اگر کسی کمپنی یا آجر کی جانب سے اس حکم نامے کے خلاف ورزی کی گئی تو اس کی شکایت وزارت کے کسٹمر سروسز لائن 19911 پر کی جا سکتی ہے یا پھر وزارت کی ویب سائٹ (https://rasd.ma3an.gov.sa) پر بھی شکایت کا اندراج ہو سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 10 جون 2019

Share On Whatsapp