Adorable Pooch Assists Street Artist In His Living Statue Routine

دلکش کتا اپنے مالک کے ساتھ ہر روز گلیوں میں زندہ مجسمہ بنتا ہے


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

برازیل کے شہر فورٹالیزا میں ایک فنکار ہر روز ہی گلیوں میں زندہ مجسمہ بنتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فن کے اس مظاہرے میں فنکار کا کتا بھی شامل  ہوتا ہے۔
یورگی لوئس روئیز ایک نوجوان وینیزولن فنکار ہیں، جو بہتر زندگی کی تلاش میں برازیل منتقل ہو گئے ۔ وہ برازیل کی شمال مشرقی ریاست  سئیرا  کے شہر فورٹالیزا  میں رہائش پذیر ہیں۔ یورگی شہر کے مصروف ترین علاقے میں زندہ مجسمہ بن کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بطور سٹریٹ آرٹسٹ  نہ صرف وہ بلکہ اُن کا کتا بھی علاقے میں کافی مقبول ہے۔ جاسپ نامی کتا زندہ مجسمہ بننے کے مظاہرے میں اُن کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور جب تک یورگی بے حس و حرکت بیٹھے، وہ بھی بے حس و حرکت بیٹھا رہتا ہے۔
یورگی اور جاسپ علاقے کے لوگوں میں تو مقبول تھے ہی لیکن حالیہ دنوں میں انہیں عالمی سطح پر بھی  مقبولیت مل رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ان کے مجسمہ بننے کے معمول کو دکھایا گیا ہے۔
تین ہفتوں میں یہ ویڈیو 50 لاکھ سے زیادہ بار دیکھی گئی ، اسے 2 لاکھ 60 ہزار لائکس  ملے اور اس پر 91 ہزار سے زیادہ تبصرے ہوئے۔یورگی اور جاسپ کے انسٹاگرام پر 90 ہزار کے قریب فالورز ہیں۔ بہت سے ایجنسیوں نےا ُن سےرابطہ کیا ہے تاکہ اُن  پر خبر بنائی جا سکے۔
یورگی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جاسپ کی کسی قسم کی تربیت نہیں کی۔ یہ سب کچھ قدرتی طریقے سے ہوا ہے۔
یورگی نے بتایا کہ وہ گزشتہ 6 سالوں سے زندہ مجسمہ بن رہے ہیں لیکن  جاسپ نے یہ اس وقت شروع کیا جب وہ  6 سال پہلے ہی برازیل منتقل ہوئے۔یورگی نے بتایا کہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا، جس کے پاس وہ جاسپ کو چھوڑتے، اسی لیے وہ اسے اپنے ساتھ ہی لانے لگے۔یورگی نے بتایا  کہ وہ جب بھی جاسپ کی گردن چومتے تو وہ  سر اونچا کر کے منجمد ہوجاتی۔ یورگی نے جاسپ کے اس رد عمل کو اپنے معمول میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

یورگی نے بتایا کہ انہیں شروع میں کئی بار مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک بار ایک خاتون، جو خود کا جانوروں کی حفاظت کرنے والی ایجنسی سے تعلق ظاہر کر رہی تھیں، نے ان پر جاسپ سے بدسلوکی کا الزام عائد کیا۔ خاتون نے اس معاملے پر پولیس کو بھی بلا لیا۔ پولیس نے جاسپ کو کھینچ کر لے جانے کی کوشش کی لیکن  علاقے کے لوگوں نے اُن کی حمایت کی اور حکام کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ یورگی کا کہنا ہے  کہ تب سے وہ علاقے کےلوگوں کے شکرگزار ہیں۔


تاریخ اشاعت : اتوار 9 جون 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں