Monkeys To Be Given Contraceptive Pill As India Wages War On Killer Primates

بھارتی حکومت بندروں سے جان چھڑانے کے لیے انہیں مانع حمل ویکسین دے گی

بھارتی  حکومت رہائشی علاقوں میں بندروں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے بہت پریشان بھی ہے اور مذہبی وجوہات کی بنا پر بندروں  کو مار بھی نہیں سکتی۔ رہائشی علاقوں میں بندروں کا ڈر اتنا کھل گیا ہے کہ وہ انسان پر حملے بھی کرنے لگے ہیں۔
پچھلے سال اکتوبر میں اتر پردیش میں  بندروں کےایک غول نے 70 سالہ شخص کو پتھر مار مار کر جان سے  مار دیا تھا۔اس شخص نے   بندروں کو عمارت  سے اینٹیں ہٹانے اور اپنے سر پر بیٹھنے سے منع کیا تھا۔

حد تو یہ ہے کہ آگرہ میں بندر ایک ماں سے اس کا 12 دن کا بچہ چھین کر لے گئے۔ یہ بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا۔انسپکٹر اجے کوشل نے رپورٹروں کو بتایا کہ جب لوگ بندر کے پیچھے لگے تو وہ بچے کے سر پر کاٹ کر اوراسے پھینک کر بھاگ گیا۔بدقسمت بچہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی  فوت ہو گیا تھا۔
ایک اور عجیب و غریب کیس میں بندروں نے  شملہ کے ایک گھر سے دس ہزار روپے چرائے اور قریبی درخت پر بیٹھ کر راہ گیروں پر نوٹ برسانے  اورانہیں  نوٹ دکھانے لگے۔
اسی ماہ بدناور میں بھی ایک شخص بندروں کے حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
ہندو بندروں کو مقدس جانور خیال کرتے ہیں۔ ہندو دیوتا ہنومان کے تعلق کی وجہ سے ہندو اسے کھانا بھی کھلاتے ہیں اور نقصان پہنچانے سے باز رہتے ہیں لیکن بندر اب بہت زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں اور شہریوں کو نقصان پہنچانےلگے ہیں۔ جنوبی دہلی کے ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ انہیں بندروں کے کاٹنے کی یومیہ اوسطاً 20 شکایات وصول ہو رہی ہیں۔

بھارت میں بندروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش 2006 سے جاری ہیں۔ ہماچل پردیش وہ پہلی ریاست ہے، جس نے بندروں کو بانجھ بنا نے کا پروگرام شروع کیا ہے۔تاہم بندروں کو کھانے میں رکھ کر مانع حمل ادویات دینے یا ڈارٹ گن سے مائع ویکسین دینے میں  الگ الگ مشکلات ہیں۔ادویات دینے میں نقصان یہ ہے کہ   کھانا تمام بندروں تک یکساں نہیں پہنچتا اور ان کی تیز رفتاری کے باعث انہیں  ڈارٹ گن سے ویکسین دینا بھی مشکل ہے۔بندروں کو مانع حمل ادویات یا ویکسین دینے کے حوالے سے اب نئے طریقوں پر بھی غور ہو رہا ہے۔
جب تک بندروں کو ادویات یا ویکسین دینے کے زیادہ بہتر طریقے سامنے نہیں آ جاتے ، بہتر ہے کہ انسان بندروں سے لڑکر ہی انہیں قابو کریں۔

تاریخ اشاعت : منگل 28 مئی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں