سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال ‘جیل میں نوازشریف سے نیب کی تفتیش

سارک کانفرنس کے لیے جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں منگوائی گئیں جو سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی کے استعمال میں رہیں. نیب حکام

لاہور : قومی احتساب بیورو (نیب ) کی تحقیقاتی ٹیم نے نواز شریف سے سرکار ی گاڑیوں کے ذاتی استعمال پر کوٹ لکھپت جیل میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، نواز شریف سے20 بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال پرتفتیش ہوگی. تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) کی تحقیقاتی ٹیم نواز شریف سے تحقیقات کرنے کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئی ، ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹرحمادحسن ،ڈپٹی ڈائریکٹرانویسٹی گیشن عبدالماجدشامل ہیں.
نیب ٹیم نے سرکار ی گاڑیوں کے ذاتی استعمال پر نوازشریف سے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں تفتیش شروع کردی ہے. نیب ذرائع کا کہنا ہے احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد ٹیم کوٹ لکھپت جیل پہنچی ہے، نیب کی تحقیقات کے مطابق سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال کیا گیا ، 33 میں سے 20 گاڑیاں نواز شریف کے ذاتی استعمال میں رکھنا خلاف قانون ہے، نواز شریف سے20 بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال پرتفتیش ہوگی.
یاد رہے 21 مئی کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نیب کو سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں تفتیش کرنے کی اجازت دی تھی. نیب کے مطابق سارک کانفرنس کے لیے جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ڈیوٹی ادائیگی کے خریدی گئیں، جنہیں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے استعمال کیا جبکہ جرمنی سے درآمد شدہ گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانان کے استعمال میں آنا تھیں.
خیال رہے کہ چند ماہ قبل سابق وزیر اعظم کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی، مدت ختم ہونے کے بعد انھیں دوبارہ گرفتار کیا گیا. اس وقت وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں. نیب کے مطابق سارک کانفرنس کے لیے جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ڈیوٹی ادائیگی کے خریدی گئیں، جنہیں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے استعمال کیا جبکہ جرمنی سے درآمد شدہ گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانان کے استعمال میں آنا تھیں.

تاریخ اشاعت : پیر 27 مئی 2019

Share On Whatsapp