عبدالحفیظ شیخ کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد

رولز میں کہاں لکھا ہے کہ بجٹ کون پیش کرسکتا ہے، ایسی پٹیشن اس عدالت میں نہ لایا کریں. اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کے لیے دائر درخواست نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ہے . تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کی درخواست پرسماعت کی. عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے مطابق مشیر خزانہ بجٹ پیش نہیں کرسکتے.
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو وزیرخزانہ کی تقرری تک حکومت کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کا حکم دے. عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ رولز میں کہاں لکھا ہے کہ بجٹ کون پیش کرسکتا ہے، ایسی پٹیشن اس عدالت میں نہ لایا کریں. اسلام آباد ہائی کورٹ نے عبدالحفیظ شیخ کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی.
دریں اثناءوزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بریفننگ دی. وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق حفیظ شیخ کی زیر صدارت بجٹ تیاریوں سے متعلق اجلاس ہوا،جس میں بجٹ تجاویز پر شبر زیدی نے بریفننگ دی. چیئرمین ایف بی آر نے اس موقع پر ٹیکس دائرہ کار بڑھانے اور حکومتی وصولوں میں اضافے کے لئے ممکنہ اقدامات پر روشنی ڈالی.
مشیر خزانہ نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات کیے جائیں، ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں اضافے کو یقینی بنائے. عبدالحفیظ شیخ نے ہدایت جاری کی کہ ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کا طریقہ کار آسان بنانے کے لئے اقدامات کرے. ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لئے آئندہ بجٹ میں 4 لاکھ سالانہ تک آمدن پر ٹیکس نہیں بھرنا پڑے گا،4 لاکھ سے زیادہ تنخواہ پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے‘ن لیگ کی حکومت نے آخری بجٹ میں 12لاکھ روپے تک تنخواہ کو ٹیکس فری قرار دے دیا تھا.

تاریخ اشاعت : پیر 27 مئی 2019

Share On Whatsapp