کراچی میں جعلی ڈاکٹر کے غلط انجیکشن سے ایک اور بچی جاں بحق

جناح ہسپتال انتظامیہ نے بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا

کراچی : کراچی میں جعلی ڈاکٹر کے غلط انجیکشن سے ایک اور بچی جاں بحق ہو گئی ہے۔ بچی کو معمولی بیماری پر نجی کلینک مین لے جایا گیا جہاں موجود جعلی ڈاکٹر نے بچی کو غلط انجیکشن لگا دیا اور انجیکشن لگتے ہی فوراََ بچی دم توڑ گئی۔ لواحقین بچی کی میت لے کر جناح ہسپتال آئے تا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا جا سکے لیکن جناح ہسپتال کی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے جعلی ڈاکٹر کو بچانے کی غرض سے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا۔
ورثاء کئی گھنٹے سے بچی کی لاش ہسپتال مین لے کر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ہسپتال والوں نے بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بچی کی موت جعلی ڈاکٹر ککے غلط انجیکشن کی وجہ سے ہوئی۔ چند روز پہلے بھی کراچی میں ہی 9ماہ کی ننھی نشوا کو دارالصحت ہسپتال میں غلط انجیکشن لگا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا دماغ مفلوج ہو گیا تھا اور چند دن بعد اسکی موت واقعہ ہو گئی تھی۔
کراچی میں ایسے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں جہاں ڈاکٹرز کی غفلت یا جعلی ڈاکٹروں کے ہاتھوں معصوم جانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے اب گلشن اقبال ڈی13کے عدنان کلینک میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں جعلی ڈاکٹر نے 8سالہ بچی کو غلط انجیکشن لگا کر موت کی نیند سلا دیا اور اب سرکاری ہسپتال نے بھی بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 28 اپریل 2019

Share On Whatsapp