ایران پر امریکی پابندیاں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

, پابندیوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل کی کمی ہوجائے گی، یورپی یونین نے امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیدیا

واشنگٹن /تہران : امریکی صدر کے فیصلے کے اثرات دنیا بھر میں ظاہر ہونے لگے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں سنہ 2019 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔ نئی قیمت 74.25 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل کی کمی ہوجائے گی، یورپی یونین نے امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیدیابین الاقوامی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کے خریداروں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند سطح پر پہنچیں۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ اب وہ ایسے کسی بھی ملک کو پابندیاں عائد کرنے سے استثنا نہیں دیں گے جو ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکہ نے گذشتہ برس نومبر میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو آٹھ بار استثنا دیا تھا اور اب دو مئی کو یہ ختم کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے امریکی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایران تیل کی آمدن کا بڑا حصہ مشرق وسطی اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اس وقت چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی ان ممالک میں شامل ہیں جو ایرانی تیل خریدتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل کی کمی ہوجائے گی تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنے ممالک امریکی اعلان کے باوجود ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں۔
آن لائن تجارت کے ادارے آنڈا کے سینئر اینالسٹ کریگ ارلیم نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایرانی تیل خریداروں پر پابندی کے اعلان سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

تاریخ اشاعت : بدھ 24 اپریل 2019

Share On Whatsapp