سندھ میں پیپلزپارٹی ساکھ کھو بیٹھی ہے پولیس ایکٹ میں ترامیم زرداری فورس بنانے کی سازش ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی : پاکستان تحریک انصاف سندھ کے قائم مقام صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پییپلزپارٹی سندھ میں پولیس ایکٹ میں ترامیم لاکر اپنے مرضی کی فورس بنابا چاہتی ہے۔ سندھ حکومت پولیس میں اختیارات کی کمی والا قانون پاس کرانا چاہتی نئے پولیس ایکٹ میں پولیس کو زرداری فورس بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
1861 انگریزوں والا قانون دوبارہ سندھ حکومت لانا چاہتی ہے۔ جس کے ذریعے اپنے پسند کے افسران لگوا کے ڈنڈے کے زور پر عوام پر حکمرانی کا سوچا جارہا ہے پی ٹی ائی پولیس اختیارات میں کمی والیقانون کی سخت مخالفت کرے گی۔ ایک سازش کے تحت پولیس ایکٹ لایا جارہا کیوں کہ پیپلزپارٹی سندھ میں اپنی سیاسی ساکھ کھو بیٹھی ہے اب پولیس کی مدد سے عوام کو قابو پانی کی سازشیں کی جارہی ہیں۔
نیا قانون سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی خلاف ورزی ہوگا۔ سندھ کے وزراء نیب زدہ سب چور ہیں۔ 18ویں ترمین کوئی نہیں لارہا ہے اگرعوام کے بھلے کے یا 20 بھی ترامیم آئیں تو لائی جاسکتی ہیں ہمارے پاس تو ٹو تھرد مجارٹی ہی نہیں، پھر بھی پیپلزپارٹی کو 18 ویں ترمیم میں خطرہ نظر آرہا ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے پسند کی ترمیم چاہتی ہے جس میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔
پی ٹی آئی سندھ کی عوام کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ سندھ کی عوام کو مکمل حقوق دلوائیں گے۔ سندھ ایک ہے ایک رہے گی کوئی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا ہے۔ این ایف سی کی بات کرنے والے پی ایف سی پر کیوں نہیں سوچتے۔ پیپلزپارٹی کی سیاست کا دہرا معیار ہے وفاق میں الگ سندھ میں الگ۔وفاق میں چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی اپوزیشن کو دلوانے پر بضد تھی۔
سندھ میں خود ہی سی او ڈی کے خلاف کمیٹیاں بنائی ڈالی۔ اب چور ہی عوام کے مال کی رکھوالی کریں گے۔ دس سالوں میں 958 ارب کی بے سندھ میں قاعدگیاں ہوئی ہیں ان یہ خود ان لوگوں کا احستاب کریں گے۔ اب سندھ میں پیپلپزپارٹی والے چوری بھی خود کریں گے رکھوالے بھی خود بن بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا سندھ میں محکمہ صحت تباہی کا شکار ہے کوئکس عوام کی جان سے کھیل رہے پہلے داماد اب پھپھو نے صحت کے محکمے کو تباہ کیا ہے پیپلزپارٹی سندھ کی عوام سے سچی نہیں ہے ان کو اپنے مال کی فکر ہے۔ سندھ میں تعلیم صحت پینے کا صاف پانی سمیت عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ اس موقع پر اراکین سندھ اسمبلی جمال صدیقی، شاہنواز جدون، و دیگر بھی موجود تھے۔

تاریخ اشاعت : پیر 15 اپریل 2019

Share On Whatsapp