ٹرمپ کرائسٹ چرچ سانحہ کو دہشت گردی قرار دینے سے گریزاں

امریکی صدر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ نسل پرستی پر مبنی بیان بازی کر کے دنیا کا امن تباہ کررہے ہیں. جان لیجنڈ

واشنگٹن : امریکا کے مقبول گلوکار جان لیجنڈ نے سانحہ کرائسٹ چرچ کا ذمے دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرا دیا ہے. جان لیجنڈ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ نسل پرستی پر مبنی بیان بازی کر کے غلط کر رہے ہیں، برائی کے اس نظریے کے تحت سیاہ فام افراد نے مساجد، معبد اور گوردواروں کو نشانہ بنایا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعے کے براہِ راست ذمے دار نہیں ہیں ان کے بیانیے نے کرائسٹ چرچ کے قاتل کو اکسایا.
امریکی گلوکار نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ برائی کے اس نظریے کی مذمت کریں اور اس کا مقابلہ کریں. دوسری جانب جہاں دنیا بھر میں نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملے کو بدترین دہشت گردی کہا جارہا ہے لیکن امریکی صدرٹرمپ نے اتنے دن گزرنے کے باوجود حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور نہ ہی اس کی مذمت کی ہے. کرائسٹ چرچ حملے کے دکھوں سے چور مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرنے کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الٹا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ جعلی میڈیا ان کو نیوزی لینڈ حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی پرزور کوشش کررہا ہے مگر انہیں یہ ثابت کرنے میں کافی دشواری ہوگی.
دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے کریمیا میں ایک تقریب کے دوران نیوزی لینڈ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک میں ایسا حملہ نہیں ہونے دیں گے، نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا مقصد امن و امان خراب کرنا تھا. کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ دنیا میں برے لوگ کم اور اچھے زیادہ ہیں جبکہ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے فیس بک اور دوسرے پلیٹ فارم کو حملے کی بروقت لائیو اسٹریمنگ نہ روکنے پر تنقید کا نشانہ بنایا.
آسٹریلوی وزیراعظم نے جی 20 تنظیم کے سربراہ اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کو خط لکھا ہے جس میں انہو ں نے معاشی طور پر مضبوط ممالک کے راہنماﺅں کو سوشل میڈیا کمپنیوں پر حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کے لیے دباو ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے بعد دہشت گرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نفرت انگیز پیغامات پھیلانے کے لیے استعمال نہ کرسکیں.

تاریخ اشاعت : بدھ 20 مارچ 2019

Share On Whatsapp