حکومت کا سوشل میڈیا پر انسداد پولیو مہم مخالف مواد پر حتمی ایکشن کا فیصلہ

وزیرِاعظم کے معاون برائے پولیو بابربن عطا نے مراسلہ چئیرمین پی ٹی آئی کو بھجوا دیا

اسلام آباد : پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے سے انکار ہے۔سوشل میڈیا خاص کریوٹیوب اور فیس بک پر پولیو مہم کے خلاف بہت زیادہ مواد شائع کیا جارہا ہے۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ والدین بچوں کو پولیوکے قطرے نہیں پلواتے۔اب وزیراعظم کے معاون برائے پولیو بابر بن عطا نے چئیرمین پی ٹی آئی کو مراسلہ بھیجا ہے کہ سوشل میڈیا سے پولیو مہم کے مخالف مواد کو ہٹایا جائے جس کے بعد یوٹیوب اور فیس بک سے یہ سارا مواد ہٹانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عمل درامد کرنے کا کہا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے تمام سوشل میڈیاویب سائٹس سے یہ مواد ہٹایا جائے۔
پاکستان میں کچھ مذہبی گروہ بھی پولیو قطرے پلائے جانے کے مخالف ہیں جن کے زیر اثر لوگ اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلواتے جبکہ حکومت ِپاکستان نے ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے انسدادِ پولیو مہم شروع کر رکھی ہے۔بعض علاقوں میں پولیو ٹیموں پر قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں جن میں کچھ کارکن شہید بھی ہوئے، اب پولیو مہم کا حصہ ٹیموں کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں پولیوکے قطرے پلانے والی ٹیموں کے کارکنان ملک بھر میں پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔
سوشل میڈیامعاشرے میں بہت گہرا اثر ڈال رہا ہے لوگ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر آنے والی بات کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان ویب سائٹس پر پولیو مہم کے خلاف مواد شائع ہونے کی وجہ سے اس مہم کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن اب حکومت نے اپنے جاری کردہ مراسلہ میں کہا ہے کہ اس طرح کے تمام مواد کو ان سائٹس سے ہٹایا جائے گا اور ایسا مواد شائع کرنے والے لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 مارچ 2019

Share On Whatsapp