پنجاب میں شریف برادران کا مقابلہ صرف چودھری برادران کرسکتے

رانا ثناء اللہ درست کہہ رہے، پی ٹی آئی میں متعدد رہنماؤں کا ن لیگ سے رابطہ ہے، میاں نوازشریف کی ضمانت کا انتظار کیا جارہا ہے،ضمانت ہوتے ہی پنجاب کی سیاست میں ایک دم فعال ہوجائیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ

لاہور : سینئر تجزیہ کارڈاکٹرشاہد مسعود نے کہا ہے کہ پنجاب میں شریف برادران کا مقابلہ صرف چودھری برادران کرسکتے ، رانا ثناء اللہ درست کہہ رہے، پی ٹی آئی میں متعدد رہنماؤں کا ن لیگ سے رابطہ ہے، میاں نوازشریف کی ضمانت کا انتظار کیا جارہا ہے، ضمانت ہوتے ہی پنجاب کی سیاست میں ایک دم فعال ہوجائیں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں متعدد رہنماؤں کا ن لیگ سے رابطہ ہے۔
رانا ثناء اللہ جو کہہ رہے ہیں وہ درست بات کررہے ہیں، میاں نوازشریف کی ضمانت کا انتظار کیا جارہا ہے۔ان کو اندازہ ہے کہ ان کی ضمانت ہوجائے گی، اگر وہ ملک سے باہر نہیں جاتے اور جیل سے باہر آجاتے ہیں تو پنجاب کی سیاست میں ایک دم فعال ہوجائیں گے۔پی ٹی آئی کی بے شمار ایسی شخصیات ہیں جو خاموشی سے نوازشریف سے رابطے میں ہیں۔عمران خان کہتے ہیں میں بزدار کو ہی وزیراعلیٰ رکھوں گا۔
جبکہ عملاً پنجاب کی سیاست میں شریف برادران کے مدمقابل چودھری برادران ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آج جس طرح کا نظر آرہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عمرا ن خان کیلئے بہت سارے بحران کھڑے ہورہے ہیں۔کیونکہ بدمعاشیہ کا نظام چل نہیں پارہا۔ آنے والے دنوں میں احتساب اورگرفتاریاں، جس پر اپوزیشن ہی نہیں حکومتی اراکین میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے۔
آنے والے دنوں میں نظام مزید تناؤ کا شکار ہونے والا ہے۔ عمران خان اپنی کابینہ میں کچھ ردوبدل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کا پہلے جو اجلاس ہوا ہے۔ اس میں وہ اراکین جو کہہ رہے تھے کہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ سے بات چیت کی جائے،تاکہ اس کے نتیجے میں مفاہمت ہو، اور پارلیمنٹ کا ماحول بہتر بنایا جاسکے ۔عمران خان نے دوٹوک کہا کہ جس نے جانا ہے چلاجائے، کابینہ چھوڑ دے، لیکن میں کسی صورت بات چیت نہیں کروں گا۔
کیونکہ پہلے بھی کہا گیا تھا کہ آپ مفاہمت کا راستہ کھولیں تاکہ پارلیمنٹ چلے اسی مفاہمت کے تحت شہبازشریف آگئے۔ان کے پی اے سی کے چیئرمین بننے سے پارلیمنٹ کا ماحول اور خراب ہوگیا،اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس چلانے کیلئے دفاعی پوزیشن میں ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے نیب ہے۔نیب آئے روز وضاحت پیش کررہا ہوتا ہے، کہ نیب سب کے ساتھ یکساں سلوک کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اب احتساب کے عمل میں کہاں کھڑی ہے ۔ زرداری صاحب نے نظرثانی اپیل دائر کردی ہے۔ اگر سندھ میں گرفتار یاں ہوتی ہیں توسندھ حکومت کہے گی کہ ہم سے وسائل چھینے جا رہے ہیں۔زرداری صاحب بھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا اٹھارویں ترمیم میں تبدلی اور وسائل کا چکر ہے۔ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ صوبوں بالخصوص سندھ کوکم پیسا دیں،وفاق بھی یہی کہتا ہے کہ صوبوں کو کم پیسا دیا جائے تاکہ وفاق کے پاس کچھ پیسا توبچے۔این ایف سی ایوارڈ تو بالکل ہی غلط ہے، اب 18ویں ترمیم کے بعد تو سرپیر ہی ختم ہوگیا ہے۔عمران خان سے اپوزیشن ہی نہیں حکومتی صفوں میں موجود لوگ بھی خفا ہیں۔

تاریخ اشاعت : پیر 11 فروری 2019

Share On Whatsapp