جنسی عمل کے باعث 4 نئی خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں

طبی ماہرین نے لوگوں کو خبردار کردیا

لندن : جنسی عمل کے باعث 4 نئی خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں، طبی ماہرین نے لوگوں کو خبردار کردیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جنسی عمل 4 نئی اور خطرناک بیماروں کے پھیلاو کا باعث بننے لگا ہے۔ پہلی بیماری کو نائسیریا میننجائٹس کو 'میننگوکس' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ بیکٹریا دماغ اور ریڑھ کی ہڈیوں میں انفیکشن کا باعث ہو سکتا ہے۔
لیکن اس سے زیادہ یہ یوروجینیٹل انفیکشن کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1970 کی دہائی میں کیے جانے والے ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ چمپینزی کے ناک اور گلے سے ہوتا ہوا یہ بیکٹریا اس کے نازک تک جا پہنچا اور اسے یوتھرل انفیکشن ہو گيا۔ اب پتہ چلا ہے کہ تقریبا پانچ سے دس فیصد نوجوانوں میں نائسیریا میننجائٹس بیکٹریا گلے یا ناک کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔
ایک مطالعہ کے مطابق یہ انفیکشن اس کے حامل ایک شخص سے اس کے ساتھی کو ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر پانچ اقسام کے این۔ میننجائٹس دنیا بھر میں ہونے والے جنسی انفیکشن کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دوسری بیماری مائکوپلازما جینیٹیلیم دنیا کے سب سے چھوٹے بیکٹریا میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ سے جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں دنیا بھر میں شدید تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔
اس کی سنہ 1980 کی دہائی میں شناخت ہوئی تھی۔ اس وقت اس بیکٹریا سے ایک سے دو فیصد افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ اسے نوجوان اور ادھیڑ عمر کے لوگوں میں تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بیکٹیریا خواتین کے تولیدی نظام میں پیڑو یا نافچہ کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ یہ بانجھ پن، اسقاط حمل، وقت سے پہلے بچے کی ولادت اور پیٹ میں ہی بچے کی موت کا سبب ہو سکتا ہے۔
طبی محققین ایم جینیٹیلیم کی روک تھا کے لیے ایجیتھرومائسین اور ڈاکسی سائیکلین جیسی اینٹی بایوٹکس دواؤں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ تیسری بیماری شیگیلا فلیکزینری ہے۔ اسے طبی دنیا میں 'شیگلوسس' کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ انسانی فضلے کے براہ راست اور بلاواسطہ رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔ اس انفیکشن کے سبب پیٹ میں تیز درد اور ڈائریا کی شکایت ہوتی ہے۔
اور اس طرح یہ بیکٹیریا اپنے انفیکشن کو مزید پھیلاتا ہے۔ چوتھی بیماری کلیمائڈیا ٹریکومیٹس میں غیر معمولی تناؤ کی وجہ سے جنسی طور پر منتقل ہونے والا یہ 'خطرناک انفیکشن' ہوتا ہے۔ ایل جی وی کے انفیکشن کے سبب غیر مستقل مہاسے، اندام نہانی میں السر کی پریشانی ہو سکتی ہے اور یہ بیکٹریا جسم کے گلوٹین نظام پر بھی حملہ آور ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آنت سے جڑی بیماریاں ہو سکتی ہیں اور یہ پاخانے کی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے ایل جی وی یورپ اور شمالی امریکہ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 10 فروری 2019

Share On Whatsapp