وفاقی حکومت نے بلوچستان کے نظر انداز اور زیر التواء منصوبوں پر پیش رفت کی یقین دہانی کروائی ہے،میر جام کمال

, وزیر اعظم ، وفاقی کابینہ کے اراکین سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں،روزگاری ، غربت انفراسٹرکچر مسائل کے خاتمے کیلئے ٹیم کی طرح آگے بڑھیں گے،وزیراعلی بلوچستان

کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان میر جام کمال نے کہا ہے کہ گذشتہ حکومت نے پانچ سال غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں سی پیک کے تحت ایک کلومیٹر سڑک بھی تعمیر نہیں کی وفاقی حکومت نے بلوچستان کے نظر انداز اور زیر التواء منصوبوں پر پیش رفت کی یقین دہانی کروائی ہے یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں وفاقی وزیر پیڑولیم غلام سرور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزراء و مشیران میر ضیاء لانگو ، محمد خان لہڑی ، میر سلیم کھوسہ ، عمر جمالی ، نصیب اللہ مری ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل ، اراکین اسمبلی عبدالرشید بلوچ، مبین خلجی و دیگر بھی موجود تھے وزیر اعلی میر جام کمال نے کہا کہ سی پیک اب الگ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ہمارے تحفظات موجودہ نہیں گذشتہ حکومت سے تھے جس نے سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں بلوچستان کو یکسر نظر انداز کیا لیکن وزیر اعظم عمران خان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق بلوچستان کی جانب سے سی پیک ہیتمام نظر انداز منصوبوں پر پیش رفت کریگا اور ان پر کام کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم سے بلوچستان کے اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا ہے اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کمیٹیاں اور ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرد اضلاع جن میں زیارت ، پشین ، کوئٹہ ، سوراب ، قلات ، مستونگ ، سمیت دیگر علاقے شامل میں گیس کی فراہمی ، پریشر بڑھانے جیسے مسائل وفاق کو پیش کئے گئے ہیں جبکہ پی پی ایل ، بولان مائننگ اور دیگر منصوبوں پر کام تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور بی اے پی مخلوط حکومتوں میں اتحادی ہیں ہم محسوس کرتے ہیں کہ مرکز اور صوبہ مل کر ہی مسائل حل کر سکتے ہیں بے روزگاری ، غربت انفراسٹرکچر مسائل کے خاتمے کے لئے ٹیم کی طرح آگے بڑھیں گے انہوں نے کہا وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے ۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 11 جنوری 2019

Share On Whatsapp