فیس بک کے وائس پریذیڈینٹ کاٹیم کے ہمراہ جمیلہ سلطانہ فاؤنڈیشن بلڈ بینک کا دورہ

اسلام آباد : پاکستان کے اپنے ایک ہفتے پر محیط دورے کے دوران فیس بک کے وائس پریذیڈینٹ برائے ایشیاء پیسیفک ، سائمن ملنر اور ان کی ٹیم نے بدھ کے روز اسلام آباد میں قائم جمیلہ سلطانہ فاؤنڈیشن بلڈ بینک کا دورہ کیا۔ فیس بک نے ر واں سال کے اوائل میں تمام ہسپتا لوں اور رجسٹرڈ بلڈ بینکس کیلئے محفوظ خون تک رسائی کیلئے خون کے عطیات کا آغاز کیا تھا۔
خون کا عطیہ دینے کے خواہش مند افراد بلڈ ڈونر کے طور پر اپنے آپ کو فیس بک پر رجسٹر کرواسکتے ہیں اور جب ان کے قرب و جوار میں موجود ا فراد ، ہسپتالوں اور بلڈ بینکس کو خون کی ضرورت ہو گی تو انکو براہ راست اسکا نوٹیفکیشن موصول ہوگا ۔ یہ سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے ساتھ ایک مسلسل اشتراک ہے جس کے تحت بلڈ بینکس کو فیس بک کے ذریعے خون کے عطیہ دینے کی خواہش رکھنے والے رضا کاروں کو تلاش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
مارچ میں اپنے اجراء سے اب تک خون کا عطیہ دینے والے دس لاکھ سے زیادہ لوگ پاکستان میں خون کا عطیہ دینے کیلئے فیس بک کے بلڈ ڈونیشن کو استعمال کر چکے ہیں۔ جمیلہ سلطان فاؤنڈیشن میں خون کا عطیہ دینے کیلئے آنے والے 25 فیصد لوگ فیس بک کے زریعے آئے تھے۔ فیس بک کے وائس پریذیڈینٹ برائے ایشیاء پیسیفک ، سائمن ملنر نے اس موقع پر کہا ” لوگوں کے درمیان مثبت رابطے قائم کرنا ہمارے لئے بہت اہم ہے۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی محفوظ خون کی کمی ہے۔ خون کی اس کمی کی وجہ سے اکثر و بیشتر مریض یا اس کے اہلخانہ کو ہسپتال یا بلڈ بینک سے حاصل ہونے والے خون کا متبادل فرا ہم کرنے کیلئے خون کا عطیہ دینے والے کی خود تلاش کرنی پڑتی ہے۔ اس مرحلے پر فیس بک کار آمد ثابت ہوسکتا ہے جس کی بدولت خون کا عطیہ دینے کے خواہش مندوں، عوام اور اداروں کو پلیٹ فارم پر یکجا کیا جا سکتا ہے۔
ہماری تحقیق کے مطابق اگر لوگوں کے پاس بہتر معلومات اور ذرائع ہوں گے تو وہ خون کا عطیہ دینے کی طرف زیادہ راغب ہوں گے اور خون کی ضرورت کے حامل خون کا عطیہ دینے والوں کو زیادہ آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری پروڈکٹ لوگوں کو اس انداز سے ایک دوسرے سے ملائے گی جس کا پہلے تصور بھی نہیں تھا اور اس کی بدولت عوام اور ادارے خون وصول بھی کرسکتے ہیں عطیہ بھی کر سکتے ہیں۔
جمیلہ سلطان فاؤنڈ یشن کے پروجیکٹ دائریکٹر توقیر عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” جناب سائمن ملنر کی تھیلیسیمیاء کے بڑھتے ہوئے چیلنج کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے جمیلہ سلطان فاؤنڈ یشن آمد ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ مریض تھیلسیمیاء سے متاثر ہوتے ہیں۔ لاکھوں کیریئرز اور بیماری کے بارے میں عدم آگاہی کے باعث اس تعداد میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات اس بیماری سے نبرد آزما ہونے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں اور فیس بک آگاہی کی فراہمی میں موئثر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نئے فیس بک بلڈ ڈونیشن فیچر کی بدولت خون کا عطیہ دینے کیلئے آنے والوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 6 دسمبر 2018

Share On Whatsapp