ْحکومت کے پہلے 100 دن ،صحت کے شعبہ میں اصلاحات اور مسائل کے حل کے لئے حکمت عملی تیار

اسلام آباد ۔ : وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کو آرڈینیشن نے حکومت کے پہلے 100 دنوں میں پاکستان میں صحت کے شعبہ کے تنقیدی مسائل کا جائزہ مکمل کر کے آئندہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے تاکہ صحت کے شعبہ میں اصلاحات لا کر اس شعبہ کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزارت صحت نے جو حکمت عملی اور لائحہ عمل مرتب کیا ہے اس کے تحت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی پہلی صحت کی حکمت عملی 2019ء تا 2025ء مرتب اور منظور کی گئی جبکہ وزارت صحت کا لائحہ عمل 2019۔
2023ء مرتب اور منظور کر لیا گیا۔ حکومت کے پہلے سو دنوں کے دوران وزارت کے ریگولیٹری انتظامات میں بھی اصلاحات متعارف کرائی گئیں جس کے تحت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور پاکستان نرسنگ سکول (پی این سی) جیسے ریگولیٹری اداروں کے انتظامی قوانین پر مجوزہ نظرثانی کے عمل کی بھی منظوری دی جا رہی ہے۔
نئی کونسلز کے قیام اور موجودہ کونسلز میں اصلاحات کے لئے قانون سازی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر ای) کو فروری 2019ء تک فعال بنایا جائے گا۔ حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں اسلام آباد کے ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات میں اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات کے فنکشن کو کیڈ سے وزارت صحت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
تمام دیہی صحت مراکز اور بنیادی صحت کے یونٹ کو 24 گھنٹے خدمات کی فراہمی کی اداروں میں تبدیل کرنے کے لئے 0.8 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت 2020 تک تمام دیہی صحت مراکز اور بنیادی صحت کے یونٹ کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ حکومت نے صحت کے شعبہ کے اخراجات اور صحت کے لئے وسائل جنریشن کے اہداف میں اضافہ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ 100 دن کے جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ پبلک ہیلتھ پر جی ڈی پی کا ایک فیصد سے کم خرچ ہو رہا ہے جسے عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق بڑھایا جائے گا جس میں صحت کے شعبہ میں نئی اصلاحات کا کہا گیا ہے۔
حکومت نے ابتدائی 100 دنوں میں ہیلتھ انشورنس پر بھی جامع کام کیا ہے۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے اہداف کے حصول کے لئے مجوزہ انشورنس پروگرام (صحت انصاف) کے ذریعے ملک بھر کے 14 ملین سے زائد نادار خاندانوں کو 2020ء تک احاطہ کیا جائے گا۔ صحت کے لئے پورے مالی نظام کو تبدیل کیا جائے گا تاکہ مطلوبہ اہداف کی فراہمی کے لئے مالیاتی نظام میں اسے پہلے سے شامل کیا جا سکے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 30 نومبر 2018

Share On Whatsapp