یک نہ شد، دو شد۔خراب مسوڑھے، بلڈ پریشر کا علاج مشکل

ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ منہ کی بیماری میں مبتلا افراد اس خبر کو ہر گز نظر انداز نہ کریں

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے تحقیقی جریدے ’’ہائپر ٹینشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک مقالے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ جبڑوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) یعنی ہائپر ٹینشن کے علاج میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر گھٹانے والی دوائیاں ان پر کم اثر کرتی ہیں۔


اس بات کا انکشاف اٹلی کی یونیورسٹی آف لے عقیلہ میں ڈاکٹر پیتروپاؤلی کے زیرِ نگرانی کئے گئے ایک مطالعے میں ہوا ہے جس میں ہائی بلڈ پریشر کے 3,600 مریضوں کے طبّی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے دوران معلوم ہوا کہ جو لوگ بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں کی ایک عام بیماری ’’پیریوڈونٹائٹس‘‘ (periodontitis) میں بھی مبتلا ہوتے ہیں، ان پر بلڈ پریشر کم کرنے والی دواؤں کا اثر بھی دیگر مریضوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے۔

بتاتے چلیں کہ پیریوڈونٹائٹس یا ’’دندان سوزی‘‘ کے دوران مسوڑھوں اور جبڑوں میں تکلیف ہوجاتی ہے جس کی وجہ عام طور پر منہ میں پائے جانے والے مضر جراثیم (بیکٹیریا) ہوتے ہیں۔
اس مطالعے کی روشنی میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے دوا تجویز کرتے وقت ڈاکٹروں کو اُن کے منہ کی صحت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنی چاہئیں؛ اور اگر انہیں منہ کی تکلیف بھی ہو تو بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ انہیں منہ کے امراض کا علاج کروانے کا مشورہ بھی دینا چاہئے۔

یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ہائی بلڈ پریشر کی دوا کے درست طور پر اثر نہ کرنے کی صورت میں یہ مرض اُن کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 25 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہے جبکہ بروقت اور مناسب علاج نہ کروانے کی صورت میں یہ کیفیت دل کے دَورے، فالج، دل کے اچانک بند ہوجانے اور گردوں کی خرابی تک کی وجہ بن سکتی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 25 اکتوبر 2018

Share On Whatsapp