کیتھے پیسیفک کی فضائی میزبانوں نے اسکرٹ نہ پہننے کی جنگ جیت لی

, مطالبے میں شدت آنے کے بعد کمپنی 1946 میں اپنے قیام کے بعد طے کردہ کیبن کیریو کا ڈریس تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی , , یونیفارم کے انتخاب کا اختیار فضائی میزبان کو دینے کے کمپنی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں ،ْ چیئر مین پولنی میک

ہانگ کانگ : کیتھے پیسیفک کی خواتین کیبن کیریو نے منی اسکرٹ نہ پہننے کی طویل جنگ جیت لی اور اب کمپنی نے انہیں ٹرازر پہننے کی اجازت دے دی۔فضائی کمپنی کی بعض خواتین کیبن کیریو نے کمپنی کو شکایت کی تھی کہ وہ خود کو منی اسکرٹ میں آرام دہ محسوس نہیں کرتیں اور خاص طور پر پرواز کے دوران مقررہ مقام پر سامان رکھنے کے دوران انہیں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔
فضائی میزبانوں نے شکایت کی کہ کام ختم کرنے کے بعد جب پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے انہیں جانا پڑتا ہے تو اسکرٹ میں انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔کمپنی کی جانب سے خواتین فضائی میزبانوں کی جانب سے شکایت کے باوجود انہیں مکمل ڈریس پہننے کی اجازت نہ دی گئی اور تین سال تک فضائی میزبانوں اور انتظامیہ کے درمیان معاملہ زیربحث رہا۔خواتین فضائی میزبانوں کے مطالبے نے اس وقت شدت اختیار کی جب عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے لئے مقبول ہونے والی مہم 'می ٹو' میں بھی کیتھی پیسیفک کی خواتین فضائی میزبان شامل ہوئیں۔
مطالبے میں شدت آنے کے بعد کمپنی 1946 میں اپنے قیام کے بعد طے کردہ کیبن کیریو کا ڈریس تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئی۔ کمپنی کے مطابق خواتین فضائی میزبان اسکرٹ کی جگہ ٹرازر پہن سکتی ہیں ،ْ فلائٹ اٹنڈنٹ ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین پولنی میک کا کہنا ہے کہ یونیفارم کے انتخاب کا اختیار فضائی میزبان کو دینے کے کمپنی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 30 مارچ 2018

Share On Whatsapp